گوگل کمپنی پینٹاگون کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر کام نہیں کرے گی


ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی امریکی وزارتِ دفاع کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر کام کرنے کے ٹھیکے کی تجدید نہیں کرے گی۔
یہ فیصلہ کمپنی کے ملازموں کی جانب سے ایسے ٹھیکے کی شدید مخالفت کے بعد کیا گیا ہے۔
پینٹاگون کے ایک پروجیکٹ ’ماون‘ کی مخالفت میں گوگل کے متعدد ملازمین نے کمپنی چھوڑ دی اور ہزاروں نے اس کے خلاف ایک درخواست پر دستخط کیے۔
مذکورہ ملازمین کو شک ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو مہلک مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی جانب یہ پروجیکٹ پہلا قدم ہے۔ اس حوالے سسے گوگل نے کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے۔
تاہم کمپنی کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گوگل کی ایک اعلیٰ اہلکار ڈائین گرین نے اپنے ملازمین کو بتایا ہے کہ مارچ میں اس ٹھیکے کی مدت مکمل ہونے پر اس کی تجدید نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی ویب سائٹ گزمو.و کی صحافی کیٹ کونجر نے بی بی سی کو بتایا کہ گوگل نے نہ تو پروجیکٹ ماون کو منسوخ کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں فوج کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس پروجیکٹ کی مالیت ایک کروڑ ڈالر سے کم ہے مگر اس سے گوگل اور پینٹاگون کے لیے درمیان مزید اشتراک کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اس پروجیکٹ میں مشین لرننگ اور انجنیئرنگ ٹیلنٹ کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی ڈرون ویڈیو میں خودکار طور پر انسانوں اور چیزوں میں فرق کو پہچاننا ہے۔
اس سال اپریل میں چار ہزار گوگل ملازمین نے ایک کھلے خط میں کہا تھا کہ کمپنی کے اس پروجیکٹ میں ملوث ہونے سے کمپنی اپنے صارفین کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور اپنی اخلاقی ذمہ داری کو نظر انداز کر رہی ہے۔
گزمودو کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کمپنی کی اعلیٰ قیادت پنٹاگون کے ساتھ اشتراک کرنے کے اثرات کے حوالے سے متضاد آرا رکھتی تھی۔
گزمو.و کا کہنا تھا کہ کمپنی کے اندرونی ای میلز میں لوگوں کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ایک بڑا موقع ہے تاہم اس سے کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔