الیکشن 2018 کے کاغذاتِ نامزدگی 2013 سے کتنے مختلف ہیں؟


پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی جانب سے نئے کاغذاتِ نامزدگی کی منسوخی کا حکم معطل کیے جانے کے بعد 2018 کے عام انتخابات کے لیے امیدواروں سے کاغذات وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔
اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے کاغذاتِ نامزدگی کے موجودہ فارم کے خلاف دسمبر 2017 میں دائر کردہ درخواست پر گذشتہ ہفتے فیصلہ سناتے ہوئے ان کاغذات کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہو گا۔
اب عام انتخابات 2018 کے لیے کاغذاتِ نامزدگی آٹھ جون تک وصول کیے جائیں گے۔
گو کہ اب انتخابات میں نامزدگی فارم الیکشن اصلاحات بل 2017 کا حصہ ہے لیکن اس میں کی گئی تبدیلیوں پر کئی حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔
ذیل میں ہم نے انھیں اُمور کا جائزہ لیا ہے کہ 2018 کے الیکشن کے لیے نامزدگی فارم، 2013 کے فارم سے کیسے مختلف ہے؟
تعلیمی قابلیت اور پیشہ
سنہ 2013 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نامزدگی فارم میں تعلیمی قابلیت اور پیشے کے بارے میں پوچھا گیا تھا لیکن 2018 کے انتخابات کے نامزدگی فارم کو پر کرنے کے لیے تعلیمی قابلیت اور پیشہ بتانا ضروری نہیں ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2002 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن بننے کے لیے کم سے کم تعلیمی اہلیت گریجویشن مقرر کی گئی تھی لیکن سنہ 2008 میں منتخب ہونے والی اسمبلی نے کم سے کم تعلیمی اہلیت کی شرط کو ختم کر دیا گیا تھا۔
غیر ملکی شہریت یا کوئی اور پاسپورٹ
2013 کے عام انتخابات کے کاغذاتِ نامزدگی میں امیدوار سے پوچھا گیا تھا کہ اُن کے پاس غیر ملکی شہریت یا پاسپورٹ تو نہیں۔
الیکشن کمیشن کے سابق فارم میں نامزد امیدوار کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایک اجازت نامے پر دستخط کریں، جس کے تحت اگر اُن کی غیر ملکی شہریت کے حوالے سے بعدم میں کوئی معلومات ملیں تو اُن کا انتخاب کالعدم قرار پائے گا۔
2018 کے انتخابات میں دوہری شہریت کے بارے میں معلومات طلب نہیں کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے آئین کے تحت دوہری شہریت کے حامل افراد قومی و صوبائی اسمبلی کے رکن نہیں بن سکتے۔
انکم ٹیکس اور زرعی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات
2013 کے انتخابات کے لیے نامزدگی فارم میں گذشتہ تین برسوں میں کل آمدن اور اُس پر ادا کیے گئے انکم ٹیکس کی تفصیلات بتانا ضروری تھا۔
اس کے علاوہ گذشتہ فارم میں زرعی ملکیتی اراضی اور اُس سے حاصل آمدن پر ٹیکس کے بارے میں پوچھا گیا تھا لیکن اس بار نامزدگی فارم میں یہ دونوں تفصیلات درکار نہیں ہیں۔
بیرون ملک سفر اور اخراجات
عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سابقہ نامزدگی فارم میں گذشتہ تین برسوں کے دوران بیرون ملک سفر کی تفصیلات اور وہاں کیے جانے والے اخراجات کی تفصیلات پوچھی گئی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے۔
2018 کے انتخابات میں بیرون ملک سفر کی تفصیلات دینا ضروری نہیں ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر نئے کاغذاتِ نامزدگی کے بارے میں مختلف قسم کے مفروضات گردش کر رہے ہیں لیکن اگر 2018 کے فارم کا جائزہ لیا جائے تو ان کاغذاتِ نامزدگی میں اثاثہ جات کی تفصیل، غیر ملکی قرضوں اور مذہب کے بارے حلف نامے سمیت ایسے بیشتر سوالات موجود ہیں جن کے حذف ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔۔