پشتون تحریک کو دشمن قوتیں استعمال کر رہی ہیں. ترجمان پاک فوج


پاک فوج کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس ‘ بہت سے شواہد ہیں کہ کیسے دشمن قوتیں پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم کو استعمال کر رہی ہیں، اور وہ استعمال ہو رہے ہیں۔‘
تاہم فوجی ترجمان نے کہا کہ آرمی چیف کی جانب سے سخت ہدایات ہیں کہ پی ٹی ایم کے نوجوان ‘ہمارے اپنے پاکستانی ہیں، اس لیے ان کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا۔’
پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ نے پہلی بار باضابطہ طور پر پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم کے معاملے پر کُھل کر بات کی ہے۔
وہ آج راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کر رہے تھے جس کے دوران انھوں نے پی ٹی ایم کے رہنماؤں منظور پشتین اور محسن داوڑ کے ساتھ پہلی ملاقات کا ذکر کیا۔
‘منظور پشتین اور محسن داوڑ سے میری اپنی ملاقات ہوئی۔ مجھے ایک صحافی نے فون کر کے کہا کہ اسلام آباد پریس کلب کے باہر ایک دھرنا جاری ہے جس میں نقیب محسود کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اس میں صحافی بھی تھے، میں نے ان کو بلا کر دو تین گھنٹے بات کی۔ آرمی چیف کو بھی اپ ڈیٹ کیا۔’
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انھیں اس وقت علم نہیں تھا کہ منظور پشتین کون ہے۔ جبکہ بات چیت میں فاٹا میں وطن کارڈ اور چوکیوں کا مسئلے پر بات کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ‘اس کامیاب ملاقات’ کے بعد انھیں دوبارہ اسی صحافی نے بتایا کہ کچھ نوجوان اب بھی بیٹھے ہیں، جس پر منظور پشتین اور محسن داوڑ سے ملاقات کی گئی، جس میں نقیب محسود اور ان پھٹے اسلحے کے بارے میں گفتگو کی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا: ‘میں نے محسن داوڑ اور منظور پشتین کو الگ دفتر میں بٹھا کر کہا کہ آپ کے تمام ایشو عملی ہیں اور وہ حل ہو جائیں گے۔ منظور پشتین کا شکریہ کا ٹیکسٹ بھی آیا کہ آپ نے تعاون کیا، مسئلہ حل ہو گیا۔ مسئلے تو حل ہو گئے تھے۔

’اس کے بعد منظور احمد محسود کے نام سے منظور پشتین نام کیسے ہوا؟ کس طریقے سے سوشل میڈیا میں مہم چل پڑی؟ کیسے ایک ہی دن میں افغانستان سے پانچ ہزار سوشل میڈیا اکاؤنٹ بن گئے؟ کیسے ایک ٹوپی ملک کے باہر سے تیار ہو کر پاکستان میں برآمد ہونا شروع ہو گئی؟ کیسے دس دس افراد ملک سے باہر احتجاج پر لگ گئے؟ اخباروں میں آرٹیکل کیسے آنا شروع ہو گئے؟
’ہمارا میڈیا اسے نظرانداز کر رہا ہے۔ ان کا شکریہ، لیکن فارن میڈیا اس کو لائیو فیس بک اور ٹوئٹر پر ٹیلی کاسٹ کر رہا ہے۔’
گذشتہ روز جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں پشتون تحفظ موومنٹ اور مسلح افراد کےدرمیان تصادم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پی ٹی ایم کے علی وزیر پچھلے چند دنوں سے مقامی افراد کے سامنے آرمی مخالف نعرے لگاتے رہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں سالہا سال سے قائم امن کمیٹی نے انھیں منع کیا اور جرگہ طلب کیا۔
‘امن کمیٹی کے درمیان پی ٹی ایم کے لوگ آئے اور ان کی لڑائی ہوئی اور ان کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ علی وزیر سے پوچھا جائے کہ آرمی اور ایف سی نے انھیں لڑنےسے منع نہیں کیا؟ وہاں ان کے آپس کے فائر سے زخمیوں کو آرمی کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بروقت اسپتال پہنچایا گیا۔’
تاہم انھوں نے کہا کہ اس کے بعد بھی سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیا گیا کہ ایک آٹھ سالہ بچی فوج یا طالبان کی گولی سے ہلاک ہوئی، ایسی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔’
جب آپ (پی ٹی ایم) اس قسم کا پروپیگنڈا کریں گے تو آپ ریاست کو مجبور کریں گے کہ وہ آپ کی خواہش کے مطابق آپ کے خلاف کارروائی کرے جو ہم نہیں چاہتے۔’
انھوں نے کہا کہ فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹے نعرے لگاتے ہیں تو اس کا ‘فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔’
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انتخابات کے انعقاد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انتخابات ‘فوج یا عدلیہ نے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے ہی کرانے ہیں۔’
اس سوال پر کہ ‘خلائئ مخلوق’ کہہ کر فوج کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے، میجر جنرل آصف غفور نے کہا: ‘سیاسی جماعتوں کو اپنی انتخابی مہم میں سکیورٹی فورسز کو نہیں گھسیٹنا چاہییے۔’
انھوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان دوسری منتخب حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والے، ان کے بقول، جعلی پروپیگینڈے اور جعلی اکاؤنٹس پر بھی بات کی۔ صحافیوں کو سلائیڈز دکھائی گئیں، جو اُن کے مطابق آئی ایس آئی کی تحقیق کے بعد تیار کی گئیں۔ ان میں سے ایک میں مختلف ٹوئٹر اکاؤنٹس کی ٹویٹس اور ری ٹویٹس کا جال دکھایا گیا تھا جن میں بعض مقامی ٹی وی چینلوں، اخبارات اور ان سے منسلک صحافیوں کی پروفائل فوٹوز شامل تھیں۔
اسی سلائیڈ چار سیاسی شخصیات کی جگہ خالی چھوڑی گئی تھی جس کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف پراپیگنڈے سے متعلق متعلقہ ادارے کو آگاہ کیا جاتا ہے لیکن ‘اگر یہ شخصیات اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ریاست مخالف بیانیے کو ری ٹویٹ کریں یا شاباش دیتے ہیں تو ان کا کیا جائے؟’
انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ذمہ داری دکھانے کی ضرورت ہے۔