تجارتی جنگ پر امریکہ کی چین کی سخت تنبیہ


چین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے تجارتی پابندیوں اور نئے درآمدی محصولات کو نافذ پر اصرار کیا تو دونوں ملکوں کےمابین تجارتی مذاکرت کا کوئی فاہدہ نہیں گا۔
چین کی طرف سے یہ بیان امریکہ کے وزیر تجارت کے چین کے دورے کے دوران مذاکرت کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکہ نے کچھ روز پہلے ہی چینی مصنوعات پر پچاس ارب ڈالرکے اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔
ادھر جی سیون ممالک نے بھی امریکہ کی جانب سے ایلومینیم اور سٹیل پر درآمدی محصولات میں اضافے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
فرانس کے وزیر مالیات برونو لی مائر نے امریکہ کی جانب سے سٹیل اور ایلومینیم پر پابندیوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جنگ شروع ہونے میں وقت نہیں لگتا اور یہ دنوں میں شروع ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ دوسرے ممالک برسوں سے امریکہ کو لوٹ رہے ہیں اور اب ہوشیار ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سٹیل کی درآمد پر محصولات کے اضافے سے امریکہ کی سٹیل کی صنعت کو فاہدہ پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ سٹیل کی صنعت قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے یورپ اور دوسرے ممالک کی جانب سے امریکی کمپنیوں پر عائد پابندیوں پر بھی شکایت کی ہے۔
چین نے امریکی وزیر تجارت سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں اجلاس میں ہونے والی کسی کارروائی کا تو ذکر نہیں کیا البتہ پچھلے ماہ واشنگٹن میں ہونے والے تجارتی مذاکرات کو نافذ کرنے پر زور دیا جس میں زرعی اور توانائی کے معاملات میں تعاون کی بات کی گئی تھی۔
چین کی سرکاری خبررساں ادارے زینوا نے ایک علیحدہ بیان نشر کیا ہے جس میں تجارتی جنگ سے بچنے کے لیے دنوں فریقین کو برابر کا حصہ ڈالنے کی بات کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ چین اپنی اصلاحات اور اپنی منڈیوں کو کھولنے کی پالیسی پرگامزن رہے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر امریکہ نے تجارتی پابندیاں عائد کیں تو دونوں ملکوں کے مابین ہونے والی بات چیت اور طے پانے والے معاہدے بے معنی ہو جائیں گے۔