پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور ’’اوپر والوں‘‘ کا معاملہ


جوں جوں عام انتخابات قریب آتے جارہے ہیں، موجودہ اور سابقہ ممبران اسمبلی سائبیرین پرندوں کی طرح محفوظ ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے ہیں، جنم جنم تک ساتھ نبھانے کی قسمیں کھانے والے سامنے جلتی آگ کو دیکھ کر ’’بچاؤ بچاؤ‘‘ کی کیفیت میں ہیں، موسمی پنچھی ایک سے دوسری، دوسری سے تیسری منڈیر پر جاکر بیٹھ رہے ہیں۔ پانچ سال تک جو مومن تھے، پاکباز تھے ایک دم سے ’’آستین کے سانپ‘‘ اور ’’چور ڈاکو‘‘ پتا نہیں کیا کیا بن گئے۔
پاکستان کی سیاست اس وقت عجیب تبدیلی کے موڈ میں نظر آتی ہے۔ تمام جماعتیں اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کی منتظر ہیں کہ کب یہ مالا ٹوٹے اور موتی بکھریں۔ چننے والے باراتیوں کی طرح بے صبرے ہوئے جارہے ہیں۔ اپوزیشن ہو یا حکومت، دونوں اپنے آئندہ لائحہ عمل اسی فیصلے کی صورت میں مرتب کریں گی اور آئندہ انتخابات کیلئے اپنے منصوبے بے نقاب کریں گی۔
منصوبے، منشور آئیں نہ آئیں، الزامات کی ضرور بوچھاڑ ہورہی ہے۔ الزامات اور بہتان تراشیوں کی دکانیں سجی ہیں، اس دوڑ میں صرف کارکن ہی نہیں قائدین تک شامل ہیں۔ اور تو اور، باقی بچ جانے والی جماعت اسلامی کو کیا ہوگیا ہے؟ سینیٹر سراج الحق کے لہجے میں اچانک تلخی کیوں آگئی؟ آمروں کی بی ٹیم سمجھی جانے والی ’’صالحین‘‘ کی جماعت نے ’’اوپر والوں‘‘ کے منصوبوں پر سیاہی کیوں انڈیلنا شروع کردی؟ کبھی کہتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں کی گردنوں پر پاؤں رکھ کر قوم کا پیسہ ان کی جیبوں سے نکالیں گے، کبھی کہتے ہیں کہ آٹھ ہزار لوگوں کو جیل میں ڈال دیں تو کرپشن کا راستہ بند ہوجائے گا اور کبھی فرماتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ’’اوپر والوں‘‘ کے کہنے پر ہوا ہے۔ سب کھوکھلے بیانات ہی ہیں یا ان میں کوئی وزن بھی ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ ’’کرپشن فری پاکستان‘‘ کا نعرہ سب سے پہلے جماعت اسلامی نے لگایا، پاناما پیپرز میں شامل سب کرپٹ لوگوں کے خلاف بھی سپریم کورٹ میں سراج الحق گئے، پی ٹی آئی اور شیخ رشید نے پارلیمنٹ سے بات بنتی نہ دیکھ کر چند قدم دور اسی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہ الگ بحث ہے کہ وزیراعظم اور شریف خاندان کے کیس کو اہم اور باقی چار سو سے زائد افراد کی لوٹ مار کو الگ کرکے عدالت کی الماریوں میں سجا دیا گیا۔ قصہ مختصر نواز شریف نااہل ہوئے، نیب انکوائریاں جاری ہیں پیشی پر پیشی ہورہی ہے، اپوزیشن جارحانہ کھیل کھیل رہی ہے تو حکومت دفاع کرتے کرتے اس پوزیشن پر آگئی ہے کہ اب سانسیں اکھڑنا شروع ہوگئی ہیں۔ ہر بندہ گرتی ہوئی دیوار کو دھکا دینا چاہتا ہے لیکن سراج الحق پر کیوں الزام آرہا ہے کہ وہ دیوار کے نیچے کھڑا ہونا چاہتے ہیں؟ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کا بھی کہا جارہا ہے۔
گھر کا بھیدی ہی گھر کے راز جانتا ہے۔ جس طرح جاوید ہاشمی نے پی ٹی آئی کے راز کھولے، سراج الحق بھی پانچ سال تک خیبر پٖختونخوا میں ساتھ رہنے کے بعد سب کچھ عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، سیاسی برتری کے حصول اور نئے اتحادیوں کو خوش کرنے کیلئے عمران خان اور ان کے دست راست وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا پردہ چاک کر رہے ہیں؛ اسی کی پوری پی ٹی آئی کو تکلیف بھی ہے۔
عام سیاسی جماعتوں سے زیادہ اقتدار کا نشہ مذہبی جماعتوں میں پایا جاتا ہے لیکن بیچارے روایتی نعروں کی زد میں آکر خواب چکناچور کروا بیٹھتے ہیں۔ سب آپ کے سامنے ہے کہ مسلم لیگ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی پاکستان کی سب سے پرانی جماعتیں ہیں لیکن اقتدار صرف مسلم لیگ کے حصے میں آیا اور بار بار آیا۔ مذہبی جماعتیں اب اتحادوں کی گٹھڑی میں بند ہوکر اقتدار کی سیڑھی چڑھنا چاہتی ہیں، ماضی میں کسی حد تک کامیاب بھی رہی ہیں۔ سراج الحق بھی اپنے خواب کی تکمیل کیلئے بلے کی بجائے کتاب اٹھا کر میدان میں آئے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ پنجاب کے ’’جماعتیے‘‘ شیر کی کچھار میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے متحدہ مجلس عمل کی کڑوی گولی نگل ہی لی ہے تو اب اسے ہضم بھی کرنا چاہتی ہے۔
پانچ سال پرانے ناتے توڑ کر نئے رشتے بنانا چاہتی ہے۔ اصل ایم ایم اے جماعت اسلامی اور جے یو آئی ہیں اور اس کے بارے میں خیال تھا کہ یہ ’’اوپر والوں‘‘ نے ہی بنائی تھی۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھیوں نے بھی انہی کے کہنے پر صادق سنجرانی کو ووٹ دیا، نواز شریف کا ساتھی ہوتے ہوئے مولانا کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی تو سراج الحق کیوں ’’اوپر والوں‘‘ سے دشمنی لے رہے ہیں؟ مسئلہ پوزیشن کا ہے، کل تک ’’اوپر والوں‘‘ کیلئے جو کردار جماعت اسلامی نبھاتی آرہی تھی وہ اب تحریک انصاف نے سنبھال لیا ہے اور خاصی حد تک کامیاب بھی ہے۔ جماعت اسلامی اب چھتری کے بغیر ہی بارش اور دھوپ کا سامنا کرے، ایک نہ ایک دن اقتدار مل ہی جائے گا۔