برآمدات کے فروغ کے لیے ڈالر کی قدر بڑھانے کے سوا چارہ نہ تھا. مفتاح اسماعیل


وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ برآمدات کو فروغ دینے کیلیے ڈالر کی قدر بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
قومی بجٹ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وہ ٹیکس چوروں کے گھیرا تنگ کرنے اور ٹیکس گزاروں کو سہولتیں دینے کیلیے بیٹھے ہیں، اب یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ بینکوں میں غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس بھی ہوں،کروڑوں روپے کا گھر ہو، نئی اور مہنگی درآمدی گاڑی بھی ہو مگر ایسے لوگ ٹیکس نہ دیتے ہوں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس صورت حال سے نمٹنے کیلیے40 لاکھ روپے سے زائد کا گھر خریدنے کیلیے این ٹی این نمبر ضروری ہے، ایف بی آر کی صلاحیت اتنی نہیں اور وہ لوگوں کو تنگ کرتے ہیں، اس لیے حکومت نے40 لاکھ روپے کی پابندی لگائی ٹیکس لینے کیلیے لوگوں کو تنگ کرنا پڑے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر بینک اکاؤنٹ میں ایک کروڑ روپے آتے ہیں تو ذریعہ آمدن بتانا ہوگا، ٹٰیکس چوروں کو بہت رعایت مل چکی، اب انھیں نہیں چھوڑیں گے، ٹیکس دینے والوں کو دینا اور چوروں کو پکڑنا میری ذمے داری ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم سب اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دینا چاہتے ہیں مگر فاٹا سمیت پسماندہ رہنے والے وہ پاکستانی بچے بھی ہمارے ہیں جو اسکول نہیں جا پا رہے، ہر جماعت فاٹا کے عوام کے حقوق کی حمایت کرتے نہیں تھکتی مگر ان کیلیے چالیس پچاس ارب روپے بھی دینے کو تیار نہیں ہوتی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کے پاس برآمدات کو فروغ دینے کیلیے ڈالر کی قدر بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ایک دوست ملک کے کمرشل بینک سے ایک ارب ڈالر کا طویل المدت قرضہ لیا گیا ہے۔