سعودی حکام نے ریسلنگ ایونٹ میں نازیبا مناظر دکھانے پر معافی مانگ لی


سعودی حکومت نے جدہ میں منعقدہ ریسلنگ ایونٹ کی لائیو کوریج کے دوران خواتین ریسلرز کے نامناسب مناظر دکھائے جانے پر عوام سے معذرت کرلی۔
سعودی میڈیا کے مطابق جمعے کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ریسلنگ کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ای کے تعاون سے ایونٹ ’گریٹسٹ رائل رمبل‘ منعقد ہوا جس میں شرکت کے لیے نامی گرامی ریسلرز جان سینا، انڈر ٹیکر اور دیگر انٹرنیشنل ریسلرز سعودی عرب پہنچے ہوئے ہیں۔
قبل ازیں سعودی عرب میں ریسلنگ کے ایونٹ پر پابندی تھی تاہم اس پابندی کا خاتمہ کردیا گیا ہے لیکن سعودی عرب کی ثقافتی اور مذہبی روایت کے پیش نظر خواتین کی ریسلنگ تاحال ممنوع ہے۔ مردوں کی اس ریسلنگ کو دیکھنے کے لیے وہاں خواتین اور بچوں سمیت 60 ہزار شائقین موجود تھے ان کے سامنے ایک ویڈیو چلائی گئی جس میں خواتین ریسلرز کو مختصر کپڑوں میں دکھایا گیا اور یہ منظر سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی کے ساتھ ساتھ دیگر ٹی وی چینلز نے بھی براہ راست کوریج میں دکھا دیے۔
سعودی میڈیا کے مطابق سرکاری ٹی وی نے فوری طور پر براہ راست نشریات روک دیں تاہم متعدد ٹی وی نے یہ مناظر دکھا دیے اور وہاں بیٹھے شائقین نے بھی اپنے اسمارٹ فونز سے تصاویر بنالیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کرادیں جس کے بعد سعودی عرب کے مقامی افراد کی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
نازیبا مناظر کی براہ راست کوریج کے بعد سعودی عرب کی جنرل اسپورٹس اتھار ٹی نے عوام سے معذرت کی ہے اور یقین دلایا کہ اس قسم کا واقعہ دوبارہ پیش نہیں آئے گا۔